Preamble
Not sure what this means? Get it in simple words, in English and Urdu.
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکمِ مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار واقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا ، وہ ایک مقدس امانت ہے؛
چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے ؛
جس میں مملکت اپنے اختیارات واقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی؛
جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا؛
جس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق، جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں ؛
جس میں قرار واقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی سے اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کرسکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں؛
جس میں وہ علاقے جو اس وقت پاکستان میں شامل یا ضم ہیں اور ایسے دیگر علاقے جو بعد ازیں پاکستان میں شامل یا ضم ہوں ایک وفاق بنائیں گے جس میں وحدتیں اپنے اختیارات واقتدار پر ایسی حدود اور پابندیوں کے ساتھ جو مقرر کر دی جائیں ، خود مختار ہوں گی؛
جس میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں قانون اور اخلاقِ عامہ کے تابع حیثیت اور مواقع میں مساوات، قانون کی نظر میں برابری، معاشرتی، معاشی اور سیاسی انصاف اور خیال، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہوگی؛
جس میں اقلیتوں اور پسماندہ اور پست طبقوں کے جائز مفادات کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا؛
جس میں عدلیہ کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی؛
جس میں وفاق کے علاقوں کی سالمیت ، اس کی آزادی اور زمین، سمندر اور فضاء پر اس کے حقوقِ مقتدر کے بشمول اس کے جملہ حقوق کی حفاظت کی جائے گی؛
تاکہ اہل پاکستان فلاح و بہبود حاصل کر سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کر سکیں اور بین الاقوامی امن اور بنی نوع انسان کی ترقی اور خوش حالی میں اپنا پورا حصہ ادا کر سکیں :
لہٰذا ، اب، ہم جمہورِ پاکستان؛
قادرِ مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ؛
پاکستان کی خاطر عوام کی دی ہوئی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ؛
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کہ پاکستان عدل عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی؛
اس جمہوریت کے تحفظ کے لئے وقف ہونے کے جذبے کے ساتھ جو ظلم و ستم کے خلاف عوام کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے؛
اس عزمِ بالجزم کے ساتھ کہ ایک نئے نظام کے ذریعے مساوات پر مبنی معاشرہ تخلیق کر کے اپنی قومی اور سیاسی وحدت اور یک جہتی کا تحفظ کریں؛
بذریعہ ہٰذا، قومی اسمبلی میں اپنے نمائندوں کے ذریعے یہ دستور منظور کر کے اسے قانون کا درجہ دیتے ہیں اور اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں۔
Machine-transcribed from the official scan; not yet checked word by word.Compare with the scan (page 23)